منگل 22 ستمبر 2026 - 17:56
علما کی سیرت حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے بلند مقام کی عکاسی کرتی ہے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین ملکی نے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے حوالے سے بزرگ علما کی خصوصی توجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آیت اللہ العظمیٰ بہجت، آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی اور علامہ طباطبائی جیسی عظیم شخصیات کی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت اور توسل سے متعلق سیرت، اس عظیم المرتبت خاتون کے بلند علمی و روحانی مقام کی عکاسی کرتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کے نائب مدیر حجت الاسلام والمسلمین ملکی نے ٹیلی ویژن پروگرام ’’آفتابِ شرقی‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو ان کی زیارت نامہ کے ذریعے بھی پہچانا جا سکتا ہے۔ یہ وہ زیارت نامہ ہے جسے امام رضا علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی کو تعلیم دیا تھا۔ بالخصوص امام رضا علیہ السلام کی جانب سے قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے بارے میں بیان کردہ ارشادات سے اس عظیم المرتبت خاتون کا خصوصی مقام واضح ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت امام تقی الجواد علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ "جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے، اس کے لیے جنت ہے"۔ اس تعبیر میں بہت گہرا مفہوم پایا جاتا ہے کیونکہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام مبالغہ نہیں کرتے۔ اہل بیت علیہم السلام کا کلام معارفِ الٰہی کی تشریح و تبیین کرتا ہے؛ وحیِ تنزیلی قرآن کریم ہے جبکہ اہل بیت علیہم السلام کا کلام قرآن کی آیات اور معارفِ الٰہی کی تبیین کرتا ہے۔

حوزہ علمیہ قم کے نائب مدیر نے کہا: جب اہل بیت علیہم السلام کسی شخصیت کے بارے میں اس قدر تاکید فرماتے ہیں کہ جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے، اس کے لیے جنت ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخصیت کا کیا مقام ہے کہ اس کی زیارت کا ایسا اجر قرار دیا گیا ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے بھی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں فرمایا ہے کہ جو شخص قم میں میری بہن کی زیارت کرے، اس کے لیے جنت ہے۔

انہوں نے اہل بیت علیہم السلام کی ارشادات کو شخصیاتِ الٰہی کے مقام و حقیقت کو پہچاننے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا: حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے زیارت نامہ میں ایسے جملے موجود ہیں جو انتہائی قابلِ توجہ ہیں، جن میں سے ایک عبارت ’’یا فاطمۃُ اشفعی لی فی الجنة‘‘ ہے۔ اس عبارت میں صرف حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا سے یہ درخواست نہیں کی جاتی کہ وہ ہمیں شفاعت عطا فرمائیں تاکہ ہم جنت میں داخل ہو جائیں بلکہ ان سے درخواست کی جاتی ہے کہ جنت میں ہمارے لیے مقام قرار دیا جائے۔

حجت الاسلام والمسلمین ملکی نے مزید کہا: اس نوعیت کی تعبیر ہمیں مختلف عبارات میں آسانی سے نظر نہیں آتی۔ عموماً اہل بیت علیہم السلام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ہماری شفاعت فرمائیں تاکہ ہم جہنم سے نجات حاصل کرکے جنت میں داخل ہو جائیں لیکن حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں ’’یا فاطمہ‘‘ کہہ کر جنت میں شفاعت کی درخواست کی گئی ہے۔

حوزہ علمیہ قم کے نائب مدیر نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے حوالے سے علما کی سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے مقام کو پہچاننے کے لیے علما کی سیرت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ جب حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا خراسان کی جانب روانہ ہوئیں تو قم میں ان کے وارد ہونے اور اس شہر میں قیام کی وجہ کے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا: ایک روایت کے مطابق حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا بنی ہاشم اور اپنے بعض رشتہ داروں کے ہمراہ خراسان کی جانب روانہ ہوئیں اور ساوہ میں بیمار ہو گئیں۔ اس موقع پر خود انہوں نے فرمایا کہ انہیں قم لے جایا جائے کیونکہ وہ قم کے لوگوں کو جانتی تھیں۔ اس روایت کے مطابق حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا تین ربیع الاول کو قم میں داخل ہوئیں اور دس ربیع الثانی کو رحلت فرما گئیں۔

حجت الاسلام والمسلمین ملکی نے کہا: ایک دوسری روایت کے مطابق یہ قافلہ راستے میں حکومتِ وقت کے اہلکاروں سے سامنا ہوا اور حضرت کے بعض ساتھی شہید ہوگئے۔ مختلف علاقوں میں موجود امام زادے بھی بعض مواقع پر اسی تاریخی سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں؛ ایسے افراد جنہوں نے اپنے دور کے استکبار اور طاغوت کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا اور ان میں عاشورائی جذبہ موجود تھا۔ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو زہر دینے کے حوالے سے بھی ایک روایت موجود ہے اور اس کے مطابق حضرت کو مسموم کیے جانے کے بعد قم کی جانب روانہ ہوئیں اور 17 روز بعد شہید ہو گئیں۔

حوزہ علمیہ قم کے نائب مدیر نے کہا: ہم ان روایات میں سے کسی بھی روایت کو مدنظر رکھیں، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں علما کی سیرت ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔

انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ بہجت کی سیرت کے اپنے مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: میں خود کئی مرتبہ دیکھتا تھا کہ آیت اللہ العظمیٰ بہجت نمازِ صبح کے بعد تقریباً ایک گھنٹے تک زیارت نامہ پڑھنے اور توسل کے لیے اسی صحن میں تشریف لاتے تھے۔ کبھی کھڑے رہتے اور کبھی حرم کے اندر تشریف لے جاتے لیکن تقریباً ایک گھنٹہ زیارت نامہ پڑھتے اور توسل کرتے رہتے تھے لیکن اس دوران کھڑے رہتے، بیٹھتے نہیں تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha